Toggle navigation
شاعری
نظم
غزل
مثنوی
نعت
حمد
قصیدہ
قطعہ
نثری نظم
شعری تراجم
شعری مزاح
نثر
نثر نگار
افسانہ
ناول
ناولٹ
ڈرامہ
خاکہ
مضامین
ادبی کالم
یاداشتیں
تنقید
نثری تراجم
انشائیے
فنون-لطیفہ
موسیقی
مصوری
خطاطی
رقص
فن تعمیر
رسائی ادب
سلام
مناقب
مرثیہ
شعرا
(current)
ای-کتاب
عالمی ادب
ارسال کریں
انجم خیالی
غزل
اے شبِ غم جو ہم بھی گھر جائیں
کوئی تہمت ہو، مرے نام چلی آتی ہے
چار گز میں مکان میرا ہے
جاں قرض ہے، سو اتارتے ہیں
مرے مزار پہ آ کر دیے جلائے گا
ہم نئی بستیاں بساتے ہیں
اندھیری رات میں تنہا سفر اچھا ہی رہتا ہے
جیسے پنجرے میں پرندہ کوئی
وہ صورتیں جو کبھی بام پر نہیں آتیں
حکایتِ ستمِ روزگار کہتے ہیں
جان سے کیسے جایا جاتا ہے
ہر گھر میں اک ایسا کونا ہوتا ہے
آ، ہجر کے ڈر نکالتے ہیں
اس غم کے سفر میں نئی راہیں نکل آئیں
دیے جلا کے ندی میں بہایا کرتا تھا
رہروِ دشت، یہاں خاک اڑا کرتی ہے
روک لیتا، نہیں روکا ترا رستہ میں نے